اشاعتیں

جولائی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پاپولیشن پالیسی پر تنقیدی جائزہ

تصویر
*پاپولیشن پالیسی پر تنقیدی جائزہ* امن و امان سے ملک ترقی کرتا ہے تحریر:محمد اورنگ زیب مصباحی (مجلس علمائے جھارکھنڈ)          ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان روز بروز جمہوریت کے سنگم سے نکل کر آمریت اور پرسنلیشن کے گڈھے کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس پر روک تھام کرنے والا کوئی مضبوط و مستحکم نظر بھی نہیں آرہا ہے ہم پچھلے نو سالوں کا جائزہ لیں تو فرقہ واریت عروج پر ہوگیا ملک میں فساد اور بھگوا دہشتگردی عام ہو گیا، پھر ایک ایک کرکے قوانین میں ترمیم و تبدیلی سے ہر روز کھٹکتی ہے کہ کہیں آج بھی کوئی قانون دستور ہند سے حذف نہ کیا گیا ہو، مظلوم شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ کس کس تبدیلی اور ترمیم پر احتجاج کریں کیونکہ ایک احتجاج ختم ہونے سے قبل دوسری تبدیلی یا ترمیمی قانون پاس ہوجاتا ہے، گویا بی جے پی حکومت اور اس کے ہمنواؤں کو کسی احتجاج کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ کار ملتا ہے کہ کوئی دوسرا متنازع قانون یا بل پاس کریں، اس طرح دستور ہند کو بتدریج بدل دیا جائے، اور اس کے لیے ہر محاذ انہیں شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہے ۔          بالخصوص یوپی میں آدتیہ ناتھ کی قیاد...

حج کی فضیلت

 *حج کی اہمیت و افادیت اور غلط فہمیوں کا ازالہ* تحریر:محمد اورنگ زیب مصباحی گڑھوا جھارکھنڈ (رکن: مجلس علمائے جھارکھنڈ)        حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذو الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اور کعبہ معظمہ کے طواف (طریقہ سنت میں جتنی باتیں ہیں اس کے مطابق ادا کرنے) کا اور اس کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے کہ اس میں یہ افعال کیے جائیں، حج ۹ہجری میں فرض ہوا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ترجمہ:- حج و عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو (البقرہ ۱۹۶)          حج زندگی بھر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے، اس کی فرضیت قطعی ہے، جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے۔         حج فرض ہونے کے لیے آٹھ شرائط ہیں جب تک آٹھوں نہ پائے جائیں حج فرض نہیں ہوگا (۱)مسلمان ہونا (۲) دار الحرب کا مسلمان ہو تو اس کے لیے فرضیت حج کا علم بھی ضروری ہے(۳) بالغ ہونا(۴)عاقل ہونا (۵) آزاد ہونا(۶)تندرست ہونا (۷)سفر خرچ کا مالک ہو (۸)وقت *حج کے فضائل*        دیکھیے حج کے یوں تو بےشمار فضائل ہیں مثلاً اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں حج بھی شامل ہے، صحیحین میں ح...

اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ___بحیثیت عادل حکمراں

 *حضرت اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ ___بحیثیت ایک عادل حکمران* نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم وإذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُواْ بِٱلْعَدْلِ صدق اللہ العظیم بجاہ نبیہ الکریم وقال اللہ تعالیٰ فی شان حبیبہ إن اللہ وملٰٓئکتہ یصلون علی النبی یٰٓایھا الذین امنوا صلوا علیہ و سلموا تسلیما درود پاک:اللهم صلی علی سيدنا محمد و علی آله وصحبه مادامت اَزمنة و اوقات وسلم تسليما کثيرا و بارک عليهم وعلی من تبع هديهم بتحيات مبارکات زاکيات ع:سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا (اقبال)  اللہ تبارک و تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:وإذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُواْ بِٱلْعَدْلِ ترجمہ(کنزالایمان) :جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔     معزز سامعین! آج کے اس ظالمانہ دور میں اپنے ایمان پر قائم رہنا اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور فیصلہ پانا سخت مشکل ترین ہے، اس معاملے میں بی جے پی اور کانگریس کے ادوار برابر ہیں ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ ...