اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ___بحیثیت عادل حکمراں
*حضرت اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ ___بحیثیت ایک عادل حکمران*
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وإذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُواْ بِٱلْعَدْلِ
صدق اللہ العظیم بجاہ نبیہ الکریم
وقال اللہ تعالیٰ فی شان حبیبہ إن اللہ وملٰٓئکتہ یصلون علی النبی یٰٓایھا الذین امنوا صلوا علیہ و سلموا تسلیما
درود پاک:اللهم صلی علی سيدنا محمد و علی آله وصحبه مادامت اَزمنة و اوقات وسلم تسليما کثيرا و بارک عليهم وعلی من تبع هديهم بتحيات مبارکات زاکيات
ع:سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا (اقبال)
اللہ تبارک و تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:وإذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُواْ بِٱلْعَدْلِ ترجمہ(کنزالایمان) :جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔
معزز سامعین! آج کے اس ظالمانہ دور میں اپنے ایمان پر قائم رہنا اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور فیصلہ پانا سخت مشکل ترین ہے، اس معاملے میں بی جے پی اور کانگریس کے ادوار برابر ہیں ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ کانگریس کے پالیسی خفیہ ہوتی تھی اور بی جے پی کھلم کھلا مگر عدل و انصاف انگریزی دور سے ہی مفقود ہے۔ مگر یاد رہے کہ عدل و انصاف صرف مشکل ہے ناممکن نہیں، اس لیے بحیثیت مسلمان کم از کم ہمیں عدل و انصاف کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور آپس کی بیجا مقدمات پہ پیسے خرچ نہ کر کے خود اپنے میں مناسب اور انصاف ورانہ فیصلہ لیں۔
ہندوستانی تاریخ میں عدل و انصاف کی جہاں بات آتی ہے وہاں ایک ہی بادشاہ ذہن میں آتا ہے وہی جس نے ظلم و ستم کفر و الحاد، فتنہ انگیزی اور بےحیائی کے دور میں بھی عدل و انصاف کا پرچم بلند کیا، جو شہنشاہ ہند کے ساتھ ساتھ ولی کامل، مجتہد، مفتی، عالم اور منصف و عادل بیک وقت تھے، ہاں! میں بات کر رہا ہوں شہنشاہ ہند حضرت اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمۃ کی آج میں انہیں کی حیات اور ان کے روشن خدمات کے عنوان سے بات کروں گا۔ کیونکہ اس ناانصافی اور ڈکیتی کے دور میں دن بدن حضرت سلطان اورنگ زیب علیہ الرحمۃ پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے، کبھی انہیں ظالم و جابر تو کبھی متشدد المزاج اور سخت رو گردانا جاتا ہے، کبھی انہیں اپنے رعایا کے درمیان غیر منصف کہہ کر تاریخ ہند کا خون کیا جاتا ہے، اور غیر تو غیر اپنے بھی اس غلط فہمی کے شکار ہیں، آج ہم ان کی حیات و خدمات پر مختصر پھر ان پہ وارد ہونے والے جائز و ناجائز اعتراضات (بہتان ) کا جواب دیا جائے گا۔
*ولادت:* اورنگ زیب علیہ الرحمۃ کی ولادت شاہ جہاں کی محبوب بیوی ارجمند بانو بیگم معروف بہ "ممتاز محل" کے بطن سے مالوہ و گجرات کے سرحدی مقام "دوحد" میں رات کے وقت ۱۵ ذی قعدہ ۱۰۷۲ھ مطابق ۲۴ اکتوبر ۱۶۱۸ء کو ہوئی، پوری سلطنت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی بالخصوص باپ اور دادا کو بے حد مسرت ہوئی۔
*تعلیم و تربیت:* آپ کی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی شاہی گھرانے کے مطابق اعلیٰ پیمانے پر ہوا، یاد رہے شاہی خاندان میں ہر چیز کا انتظام مکمل ہوا کرتی تھی مگر شہزادوں میں رجحان جس جانب ہوتا وہ اس میں ماہر ہوتے اور شرعی تعلیم میں زیادہ سے زیادہ نماز ، روزہ حج اور چند دیگر مسائل ہی تک محدود ہوتے، مگر اورنگ زیب کی طبیعت اور ذوق بہادری سپہ گری کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ شرعیہ کی جانب جھکا ہوا تھا اور انہیں وقت کے مشاہیر علماء، فضلاء اور شیوخ سے شرف تعلم حاصل ہوا۔
بقول علامہ فضل حق خیرآبادی: آپ نے ابتدائی تعلیم ملا ابوالواعظ ہرگائی سے حاصل کی علم و ادب میں مولوی سید قنوجی سے شرف تلمذ کیا، ان کے علاوہ مولانا عبداللطیف سلطان پوری، ملا محی الدین بہاری، سید عبد القوی اور ملا جیون امیٹھوی وغیرہ سے اکتساب علم و فضل کیا، ان حضرات کی صحبت اور ان کے مؤثر نصائح نے آپ میں کتب بینی اور محنت شاقہ کا شوق و جذبہ پیدا کر دیا ، جس کا اثر یہ ہوا کہ سپہ گری اور شجاعت و بہادری کے لیے محنت شاقہ کرتے ہوئے باقی کا سارا وقت کتب خانہ میں دینی تعلیم کے لیے صرف کرتے تھے، حالانکہ عموماً شہزادے عیش و آرام میں رہتے ہیں یا تعلیم سپہ گری ہی تک محدود ہوتے ہیں۔ آپ کے زیر مطالعہ امام غزالی رحمة الله عليه کی تصنیفات، شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کے مکتوبات اور شیخ شمس الدین، قطب الدین اور محی الدین ابن العربی کے رسائل عموماً ہوتے تھے باقی دیگر فقہی کتابوں پہ بھی کامل دسترس حاصل تھا۔
یہی وجہ ہے کہ آپ ایک باکمال عالم دین، بےمثال فقیہ، عظیم نثر نگار ادیب اور خطاط تھے، ان خوبیوں کے ساتھ آپ قرآن مجید کے بہترین حافظ بھی تھے اور یہ بات باعث حیرت و تعجب ہے کہ انہوں نے یہ علمی سعادت بچپن میں نہیں بلکہ اپنی عمر کے ۴۳ تینتالیس سال گزرنے کے بعد حاصل کی تھی (مجددین اسلام نمبر)
*سیرت و کردار:*
آپ پکے سنی صحیح العقیدہ مسلمان اور شریعت مطہرہ کے مکمل پابند تھے ، آپ احیاء دین اسلام کو اپنا فریضہ سمجھتے تھے مذہب اسلام سے حد درجہ محبت تھی آپ نے احیاء دین میں اہم کردار ادا کیا اسی لیے فقہاء عصر نے محی الدین کے لقب سے نوازا۔
ساقی مستعد خان لکھتے ہیں:-حضرت خلد مکاں اپنی فطرت سعادت اندوزی کی وجہ سے مذہبی احکام شعائر کے بےحد پابند تھے حنفی المذہب سنی تھے، فرائض خمسہ کی پابندی اور ان کے اجراء میں ہمیشہ کوشاں رہتے تھے، حضرت ہمیشہ باوضو رہتے نماز اول وقت مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا فرماتے، روزوں کے پابند تھے، قبلہ عالم حق طلبی کے شیدائی تھے، معمول تھا کہ مسجد میں تمام رات اہل نظر کے ساتھ سرگرم گفتگو ہوکر محو ذکر رہتے، رمضان المبارک میں مسجدوں میں اعتکاف کرتے (تذکرہ مجددین اسلام پاکستان ص ۲۵۴)
آپ کے سیرت و کردار کا عالم یہ تھا کہ آپ کے پیر و مرشد آپ کی اسلام پسندی، خلوص اور عدل و انصاف کی وجہ سے سلطان الاسلام اور امیر المومنین کے القابات سے یاد فرماتے۔
آپ حضرت عمر فاروق اور عمر بن عبد العزیز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رات کو گلیوں میں چکر لگاتے تھے کہ کہیں کوئی مصیبت زدہ تو نہیں۔
*شجاعت و بہادری*
یقیناً خدا جسے نوازتا ہے مالا مال کر دیتا ہے حضرت اورنگ زیب میں جہاں بہت سے کمالات تھے وہیں اپنے آباءواجداد کی طرح شجاعت و بہادری میں بھی ممتاز تھے بلکہ بڑھ کر تھے مغل بادشاہوں میں بڑے بڑے بہادر ہوئے مگر پرجوش، اعلیٰ ہمتی ، نڈر اور حوصلہ مندی میں اپنی مثال آپ تھے، یہاں تک کہ ۸۰سال کی عمر میں بھی کمال جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے، ایک مرتبہ نماز کے دوران ایک خونخوار شیر نے آپ پر حملہ کر دیا آپ نے نماز توڑ کر فوراً اسے ختم کیا اور خوف زدہ ہوئے بغیر دوبارہ نماز شروع کر دی(ماخوذ از مجددین اسلام نمبر)
ان کی بہادری کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دارہ شکوہ کی شادی کے بعد بطور تفریح دو ہاتھیوں سدھاکر اور صورت سندر کے درمیان مقابلہ کرایا گیا، اچانک سدھاکر اورنگ زیب کی جانب بڑھا جو کہ گھوڑے پر سوار تھے قریب تھا کہ کچل دیتا مگر اورنگ زیب نے نہایت پھرتی اور کمال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سدھاکر ہاتھی کے پیشانی پر نیزے سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ہاتھی زخمی ہوکر مزید بپھر گیا اور گھوڑے کو اتنی زور سے مارا کہ اورنگ زیب زمین پر آگیا مگر ہاتھی مقابلے کی طرف متوجہ ہوگیا۔
برادران ملت اسلامیہ وہ انسان کتنا بہادر ہوگا جو بلا خوف و خطر کبھی شیر کو مارڈالتا ہے کبھی ہاتھی سے الجھ پڑتا ہے اور اسے چوں تک نہیں ہوتا، اس طرح کے اور بھی دلچسپ واقعات ہیں ان کے متعلق جو بہادری کا ثبوت دیتے ہیں۔
پھر بہادری کے ساتھ سیاسی سمجھ بوجھ میں بھی اولیت کا درجہ حاصل تھا کہ تخت کی لڑائی میں ہوئے ان کے اور دارہ شکوہ کے بیچ مقابلے سے بھی اندازا لگایا جا سکتا کہ خود بادشاہ والد شاہ جہاں کی مکمل حمایت کے باوجود شاہی لشکر کے ساتھ بھی اورنگ زیب دارہ شکوہ کو شکست دے دیتا ہے۔
*ان کے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ*
ہندوستانی متعصب قسم کے تمام ہندو ، انگریز زدہ مسلمان، انگریزی اور ہندو مؤرخ اور موجودہ دلال میڈیا اورنگ زیب کو سخت گیر مذہبی ذہنیت والا بادشاہ مانتے ہیں جو ہندؤں سے نفرت کرتا تھا اور اپنی سیاسی مفاد کے لیے اپنے بھائی اور باپ تک کو نہیں بخشا، وہ مندروں کو توڑ دیتا تھا، راج پوتوں کو اذیت دیتا اور انہیں ملازمت سے برطرف کرتا تھا۔ یہ ایسی غلط فہمیاں ہیں جس نے تاریخ ہند کے روشن پہلو جس میں عدل و انصاف اور ہندوستانی ڈی جی ڈی پی دنیا میں سب سے اعلیٰ تھی کو فراموش کراتی ہے۔
مگر حال ہی میں ایک امریکی تاریخ داں "آڈرے ٹرسچکی نے اپنی تازہ کتاب" اورنگ زیب دا مین اینڈ دا متھ "بتایا کہ یہ خیال غلط ہے کہ اورنگ زیب نے مندروں کو اس لیے مسمار کروایا کیونکہ وہ ہندؤں سے نفرت کرتا تھا۔
ٹرسچکی مزید لکھتی ہیں کہ اورنگ زیب کی اس شبیہ کے لیے انگریزوں کے زمانے کے مؤرخ ذمہ دار ہیں جو انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت ہندو مسلم مخاصمت کو فروغ دیتے تھے۔
وہ مزید لکھتی ہیں کہ ان کے دور میں ایسا کچھ نہیں ہوا کہ جسے ہندؤں کا قتل عام کہا جا سکے اور نہ ہی ہندو منادر توڑے گئے اور ایک دو توڑے بھی گئے تو بغاوت کو دبانے کے لیے نہ کہ نفرت کی وجہ سے۔
*بعض مندر کیوں توڑے گئے؟*
نرسنگھ دیو بندیلہ نے جہاں گیر کی ولی عہدی کے زمانے میں ابو الفضل کو فریب سے قتل کرکے تمام مال و اسباب اور شاہی خزانہ لوٹ لیا اسی کی دور حکومت میں اسی کی اجازت سے متھرا میں مندر کی تعمیر کی اور اعلانیہ مسلمانوں پر ظلم و جبر کرنے لگا حتی کہ مسلمان عورتوں سے جبرا شادی یا بدکاری کرنے لگا اور مساجد کو توڑ کر اپنی عمارت یا مندر بنایا گیا۔
عزیزان ملت! اورنگ زیب کی تخت نشینی کے بعد ستر مسلم عورتوں اور لونڈیوں کو کفار سے آزاد کرایا گیا اور جن مسجدوں کو عمارت یا مندر بنایا گیا تھا انہیں پھر مسجد بنائی گئی۔
زمانہ جہانگیری سے ہی ہندؤں کی ظالمانہ کارروائی شروع ہوگئی تھی اور بغاوت کے آثار رونما ہونے لگے تھے تو اورنگ زیب نے صرف بغاوت کے آثار کو ختم کیا، ہندو گروکولوں میں مسلمانوں کو وہ اپنی مذہبی کتابیں اور علوم پڑھاتے تھے پس عالمگیر نے روکنے کا حکم دیا تب سے متھرا کے اطراف و جوانب شورش رونما ہوئی جسے روکنے کے لیے عبد النبی خان متھرا کا فوج دار متعین ہوا مگر باغیوں نے اسے مار ڈالا، تب اورنگ زیب نے ہر اس بت خانہ کو توڑ دیا جو بغاوت کے اڈے تھے یا پہلے وہ مسجد تھے، جس میں بنارس کا بت خانہ بھی شامل ہے (ماخوذ، بادشاہ نامہ، مجددین اسلام نمبر)
انگریزی اور ہندو متعصبین کا کہنا ہے کہ مندر توڑے گئے اسی لیے بغاوت ہوئی مگر درحقیقت اس کے برعکس ہے یعنی پہلے بغاوت ہوئی اور جس اڈے سے بغاوت ہوئی اسے توڑ دیا گیا۔
*بعض راجپوتوں کو اذیت اور انہیں ملازمت سے کیوں برطرف کیا گیا؟*
ہندو راجپوتوں کے تین مرکز تھے جے پور، جودھ پور اور اودے پور، جودھ پور کا رئیس جسونت سنگھ انتہائی سرکش اور غدار تھا اس نے عالمگیر کے ساتھ جو برتاؤ کیے وہ یہ تھے کہ سب سے پہلے عالمگیر کے بالمقابل آیا، عالمگیر نے پھر بھی فتح پاکر اسے معاف کر دیا اور اسے فوج کا افسر مقرر کیا لیکن شجاع کی لڑائی میں نہایت غدارانہ طریقہ سے رات کو چھپ کر دشمن سے ہاتھ ملا لیا جس سے عالمگیر کی فوج بکھر گئی پھر بھی عالمگیر نے معاف کر دیا اور جاگیر و منصب دیکر دکن بھیجا وہاں جا کر شیواجی سے سازش کی اس کے مرنے کے بعد راجپوت ایک ماہ کے بچے کو والی ریاست بنانے کی درخواست کی جب عالمگیر نے کہا کہ اسے دربار میں طلب کیا اور کہا کہ شعور آنے تک یہی رہے گا پھر اسے یہ منصب دیا جائے گا مگر راجپوت شاہی عہدیداروں سے لوٹ مار کرنے لگے اور فساد پھیلاتے ہوئے دہلی پہنچے عالمگیر نے انہیں نظر بند کر دیا اب آپ بتائیں اس کون سی بات انصاف کے خلاف ہے؟ اور باغی یا غدار راجپوتوں کے علاوہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ عالمگیر نے انہیں اذیت پہنچائی ہو۔
اور یہ حکم کہ صوبہ داروں اور تعلقہ داروں کے پیش کار دیوان اور محصولات وصول کرنے والے ہندو مقرر نہ جبکہ یہ حکم باقی نہ رہا بلکہ اصلاح کرکے ایک ہندو اور ایک مسلم مقرر ہوتے رہے۔ در حقیقت ان عہدوں پر کائستھ مقرر ہوتے تھے جوکہ رشوت خور اور خائن ہوتے تھے اسی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تاکہ ان کی نگرانی ہوتی رہے اور رشوت اور خیانت سے شاہی خزانہ محفوظ رہے۔ حالانکہ اعتراض کرنے والوں کو رام بھیم سنگھ، اندر سنگھ، بہادر سنگھ، راجہ مان سنگھ اور راؤ انوپ سنگھ کی ملازمت اور قربت دکھائی نہیں دیتی، راجپوتوں کو فوجی دستوں میں جگہ دکھائی نہیں دیتی، درحقیقت یہ اعتراض نہیں بلکہ ہندوستانی باشندوں کو ہندو مسلم لڑائی میں جھونکنا ہے۔
*آپ کا عدل و انصاف*
در حقیقت اورنگ زیب عدل و انصاف میں حضرت عمر اور علی رضی اللہ عنہما کے پرتو تھے آپ نے شہنشاہی کا تاج اپنے سر پر اس لیے نہیں رکھا کہ خود عیش و آرام کی زندگی گزاریں اور اپنے نفسانی خواہشات، مرغ مسلم اور ٹھاٹ باٹ کے لیے رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس لگائیں بلکہ بادشاہت آپ نے اس لیے قبول کیا تھا تاکہ رعایا امن و سکون کی زندگی بسر کرے ملک میں عدل و انصاف کا جھنڈا لہرایا جائے اور ہوا بھی ایسا ہی کہ آپ نے عدل و انصاف کا ایسا مضبوط شامیانہ تانا جس کے تلے بھیڑیا ایک کمزور بکری پر بھی حملہ کرنے کی جرأت و ہمت نہیں رکھتا تھا اس واقعہ میں ملاحظہ کریں کہ مذہب و ملت میں تمیز کیے بغیر عدل و انصاف کو قائم رکھا۔
کہ حضرت اورنگزیب عالمگیر کی دور حکومت میں ابراہیم خان نامی ایک شخص کو بنارس کا کوتوال مقرر کیا گیا چند روز ہی ہوئے تھے کہ سارے بنارس میں اس کے خلاف دہشت پھیل گئی کہتے ہیں کہ وہ ایک نہایت عیاش اور ظالم شخص تھا اس کے ہولناک نگاہوں سے کسی نو شگفتہ کلی کا بچ نکلنا بہت ہی مشکل تھا اس کے جاسوس گلی گلی سراغ لگا کر اس کو اطلاع پہنچاتے آہستہ آہستہ کوتوال کی ہوس پرستی اور عیاش مزاجی کی داستان میں پورے شہر میں مشہور ہو گئیں کسی کی بہو بیٹی کی آبرو اس کی درندگی سے محفوظ نہیں تھی جب تک وہ کسی کی عصمت کا تازہ خون نہ کر لیتا اس کی رات چین سے نہیں کٹتی تھی بنارس میں اس سے پہلے شقی القلب اور بد مست حاکم پہلے کبھی نہیں آیا تھا ۔
کوتوال کے جاسوسوں نے اطلاع دی کہ شہر میں پنڈت لالہ رام کی نوجوان بیٹی شکنتلا ایک ایسا ہیرا ہے جس پر آج تک کسی کی نظر نہیں پڑی کوتوال کی طرف سے پنڈت کو پیغام بھیجا گیا کہ مجھے خبر ہے کہ شکنتلا نام کی تمہاری بیٹی ہے جو سن بلوغ کو پہنچ چکی ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے اپنے گھر کی زینت بنایا جائے لہٰذا اس کی ڈولی سجا کر میرے دروازے تک پہنچا دو ایک ہفتے کی مہلت دیتا ہوں اگر اس دوران میرے حکم کی تعمیل نہ ہوئی اور تمہاری بیٹی کی ڈولی میرے دروازے پر نہ لگی تو پھر میرے سپاہی اسے زبردستی اٹھا لیں گے باپ نے بیٹی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا آپ حاکم شہر سے ایک ماہ کی مہلت لے لیں ایک ماہ کی مہلت طلب کی گئی جس کی اجازت دے دی گئی اب شکنتلا نے مردانہ لباس پہنا سر پر عمامہ باندھا اور گھوڑے پر سوار ہوکر دہلی روانہ ہوگی سلطان نماز جمعہ سے فارغ ہوا تھا کہ اس کے سامنے شہزادوں کا لباس پہنے ایک نوجوان کھڑا تھا ۔
روشن ضمیر بادشاہ کو حقیقت تک پہنچنے میں ایک لمحے کی تا خیر نہ ہوئی نقیب کو حکم دیا اس نوجوان کو دیوان خاص میں میرے سامنے پیش کیا جائے اورنگزیب عالمگیر جیسے ہی دیوان خاص میں اپنے تخت شاہی پر براجمان ہوئے نوجوان کو پیش کردیا گیا سلطان نے حکم دیا دربار فورا خالی کردیا جائے سارا دربار خالی ہوگیا تو سلطان نےنوجوان کی طرف چادر بڑھاتے ہوئے کہا بیٹی لو یہ دستار اتار کر چادر اوڑھ لو ایک اجنبی عورت کو مردوں کے سامنے بے نقاب نہیں رہنا چاہیے اپنی نسوانیت کا راز مت چھپاو میں تمہاری فریاد سننے کیلئے تیار ہوں شکنتلا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اس نے اپنی ساری کہانی بیان کر دی درد ناک سر گزشت سننے کے بعد سلطان نے اپنا حکم سنایا کہ ایک مہینے کی مہلت میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں اب تم اپنے شہر لوٹ جاو اور والدین سے کہہ دو کہ وہ فورا تمہارے ڈولے کا انتظام کریں ۔
حکم سن کر شکنتلا کے سارے ارمانوں کا خون ہو گیا اس کے پاوں کے نیچے سے زمین نکل گئ شکنتلا گھوڑے پر سوار ہوئی اور بنارس کی طرف روانہ ہو گئ راستے میں بار بار سوچتی کہ بادشاہ نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا پھر یہ بھی خیال آتا کہ بادشاہ کے منہ سے بیٹی کا خطاب کوئی معمولی نہیں وہ ضرور اس کا حق ادا کریگا مقررہ تاریخ پر شکنتلا کا ڈولا تیار ہو گیا سارے شہر میں کوتوال کے مظالم کی بھیانک دہشت طاری ہو گئی بوڑھا کوتوال خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا آج ملکہ حسن اس کے گھر کی دلہن بن رہی تھی ایک سپاہی نے اطلاع دی سرکار شکنتلا کا ڈولا بہت قریب آگیا ہے بس چند قدم کے فاصلے پر آگیا ہے بوڑھا کوتوال پیسے لٹانے میں مصروف ہو گیا بنارس کے بھکاریوں میں ایک لوٹ مچ گئی مبارک سلامت کے شور میں کوتوال کا غرور جاگ اٹھا پیسے لٹاتا لٹاتا ڈولے کے قریب پہنچ گیا اب جو نظر اٹھی تو سامنے شہنشاہ ہند اورنگزیب عالمگیر کھڑے تھے۔
کوتوال خوف سے کانپنے لگا دہشت کے مارے سارے جسم کا خون سوکھ گیا بت کی طرح بے حس و حرکت کھڑا تھا ۔غصے سے کانپتے ہوے شہنشاہ نے کہا کیوں بے تنگ اسلام اسی کرتوت کےلیے تجھے بنارس بھیجا تھا کہ ایک ہولناک ظلم کا تماشہ رچاتے ہوئے تجھے ذرا بھی شرم نہ آئی کیا تجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سارا ہندوستان اسلام کی پناہ میں ہے اقوام کی عزت و آبرو اور جان و مال کا تحفظ ایک مسلمان کا سب سے مقدس فریضہ ہے پھر فرط غضب سے شہنشاہ کا چہرہ سرخ ہوگیا آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں اسی دوران دہلی سے چلا ہوا فرجی دستہ بھی آ پہنچا،کوتوال کی طرف اشارہ کرکے شہنشاہ نے سپہ سالار کو حکم دیا اس سیاہ کار کو فورا کیفر کردار تک پہنچاو تاکہ دوسرے لوگ اس کے انجام سے عبرت حاصل کریں ۔
اس کے دونوں پاؤں الگ الگ دو خون خوار ہاتھیوں کی ٹانگوں سے باندھ دیے جائیں اور پوری قوت کے ساتھ ہاتھیوں کو مخالف سمت میں دوڑایا جائے یہاں تک کہ زمین پر اس کے جسم کے ٹکڑے بکھر جائے شہنشاہ کے حکم کی تعمیل میں فوجی دستہ حرکت میں آگیا اور کوتوال اپنے انجام کو پہنچ گیا سارا شہر شہنشاہ اورنگزیب کے انصاف سے گونج رہا تھا اور اس کی قوت فیصلہ پر ہر شخص مبہوت رہ گیا شہنشاہ کے فیصلے کی خبر سارے شہر میں پھیل گئی واقعہ کے اطلاع پاتے شکنتلا کے ماں باپ خوشی سے پاگل ہو گئے شکنتلا اپنے گھر جیسے ہی پہنچی شہنشاہ بھی اپنی بیٹی کے گھر پہنچ گئے پہلے مجھے پانی پلائے اس دن سے پیاسا ہوں جس دن سے شکنتلا میرے دربار میں فریاد لے کر گئی تھی میں نے اپنے خدا سے عہد کر لیا تھا کہ جب تک میں ایک مظلوم برہمن کو اسکا انصاف نہیں دے لونگا اپنے حلق کے نیچے پانی کا ایک قطرہ تک نہیں اتاروں گا ۔
حضرت اورنگزیب نے وضو کر کے پہلے دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی بعد میں کھانا تناول فرمایا جونہی واپس ہونا چاہتے تھے پنڈت لالہ رام ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے جہاں پناہ جس جگہ آپ نے نماز ادا کی اسے ہم اپنے دل کی اتھا گہرائیوں سے مسجد کے لئے وقف کرتے ہیں شہنشاہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے تانبے کے پترے پر تحریر لکھ کر دے دی اس مسجد کے متولی ہمیشہ اسی خاندان کے لوگ رہیں گے وہ مسجد آج بھی گنگا کے کنارے کھڑی ہے اور اس کا نام دھریرا کی مسجد ہے حضرت مولانا سید شاہ آل مصطفی قادری نے تانبے کے پترے پر حضرت اورنگزیب کا وہ تاریخی دستاویز بچشم خود ملاحظہ فرمایا ہے آج بھی اسی خاندان کا شخص اس مسجد کا متولی ہے۔
اسی عدل و انصاف کی مضبوطی اور رعایا کے امن و امان اور فلاح و بہبود کی وجہ سے اورنگ زیب کے دور حکومت میں ہندوستان دنیا کا سب سے امیر ترین ملک تھا اور دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ اکیلے پیدا کرتا تھا یعنی ۲۵فیصد جبکہ اس وقت انگلستان کا حصہ صرف دو فی صد تھا (بی بی سی/ویکیپیڈیا)
*آپ کے تجدیدی کارنامے*
آپ کی تخت نشینی سے قبل شاہجہاں اور جہانگیر کے دور اقتدار میں اخلاقی اجتماعی مذہبی اور سماجی حالات انتہائی خراب تھے، بداخلاقی توہم پرستی اور الحاد سے دنیا بھری ہوئی تھی، آپ تخت نشیں ہوتے ہی اپنی تمام کوششیں ان برائیوں کے خاتمے میں صرف کردی، یہاں تک کہ ان کی کوششیں رنگ لائیں اور عظیم مقصد میں کامیاب ہوئے، چنانچہ بھنگ کی کاشت کاری، شراب فروشی اور شراب نوشی ممنوع قرار دی، جوا بند کرادی، بازاری فاحشہ عورتوں کو حکم دیا کہ یا تو شادی کر لیں یا ملک چھوڑ دیں، ان احکام پر تعمیل کے لیے محتسب مقرر کیے گئے۔
ہندؤں سے جزیہ اور مسلمانوں سے زکوۃ وصولی پر زور دیا اور تمام غیر اسلامی رسومات مثلاً غیر خدا کو سجدہ کرنا، نو روز، سالگرہ، ہولی، دیوالی، دسہرہ ، تلک وغیرہ موقوف کرادی، جھوٹی شاعری، موسیقی، نجوم، رقص اور مصوری سے شاہی دربار کو پاک کردیا گیا، مساجد اور خانقاہوں کی مرمت کرا کے، مدرسوں، علماء، طلباء کے لیے جاگیریں اور وظائف مقرر کیے، سکوں پر کلمہ طیبہ اور آیات قرآنی لکھنے کی ممانعت کردی گئی (محمد بن قاسم سے اورنگ زیب تک)
علاوہ ازیں فتاویٰ عالمگیری کی تدوین اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمۃ کا عظیم کارنامہ ہے، اس کی تصنیف و تدوین کے لیے ملک کے مشہور و معروف علماء و فقہاء کی ایک ٹیم تیار کیا جن کے صدر شیخ نظام الدین تھے علماء کی اس ٹیم کے لیے وظائف مقرر تھے، سارے علماء کی خلوص اور محنت کے ساتھ ساتھ اس کی تیاری میں حضرت اورنگ زیب نے تقریباً دو لاکھ روپے خرچ کیے اور خود بھی اس کی تدوین میں شامل رہے، آپ روزانہ ایک صفحہ یا کچھ زیادہ ملا نظام الدین سے پڑھوا کر سنتے اور اس پر جرح و قدح بھی فرماتے اس طرح آٹھ سال میں فتاویٰ عالمگیری تیار ہوئی (ماخوذ، مجددین اسلام نمبر)
*مزدوری کرنے والا بادشاہ*
حضرت اورنگ زیب علیہ الرحمۃ کے قدموں تلے خزانوں کا دریا بہتا تھا جس سے سارا ہندوستان سیراب ہو رہا تھا مگر حیرت کی بات ہے کہ آپ نے اپنی ذات کے لیے شاہی خزانہ سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا، آپ ٹوپیاں بناتے اور اس کے پلوں میں بیل بوٹے نکالتے اور اسے فروخت کردیتے، آپ خطاط بھی تھے قرآن مجید اپنے ہاتھوں سے نہایت خوش خط تحریر فرماتے اور اسے ہدیہ کردیتے پھر ان دونوں کی آمدنی سے اپنا خرچ پورا کرتے۔ آپ نے دو قرآن مجید اپنے خامہ مخصوص سے تحریر کرکے مدینہ منورہ میں حرم نبوی کے اندر بطور ہدیہ رکھوا دیا، اور آج بھی ہندوستان کے مختلف لائبریریوں میں آپ کے تحریر شدہ قرآن مجید کے متعدد نسخے موجود ہیں، آپ ہفتے میں دو دن ٹوپیاں بناتے اور مزدوری کام بھی کرتے بھیس بدل کر اگر مل جاتا ورنہ قرآن مجید کی خطاطی کرتے یا کتابوں کا مطالعہ کرتے، جسے آپ اس واقعہ میں سنیں کہ اورنگ زیب کس مجذوبانہ مزاج کے بادشاہ تھے ۔ مولانا احمد جیون ہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے استاد تھے۔ اورنگزیب اپنے استاد کا بہت احترام کرتے تھے۔ اور استاد بھی اپنے شاگرد پر فخر کرتے تھے۔
جب اورنگزیب ہندوستان کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے غلام کے ذریعے استاد کو پیغام بھیجا کہ وہ کسی دن دہلی تشریف لائیں اور خدمت کا موقع دیں۔ اتفاق سے وہ رمضان کا مہینہ تھا اور مدرسہ کے طالب علموں کو بھی چھٹیاں تھی۔چنانچہ انہوں نے دہلی کا رُخ کیا۔
استاد اور شاگرد کی ملاقات عصر کی نماز کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں ہوئی۔ استاد کو اپنے ساتھ لیکر اورنگزیب شاہی قلعے کی طرف چل پڑے۔رمضان کا سارا مہینہ اورنگزیب اور استاد نے اکھٹے گزارا۔۔ عید کی نماز اکھٹے ادا کرنے کے بعد مُلا جیون نے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا۔ بادشاہ نے جیب سے ایک چونّی نکال کر اپنے استاد کو پیش کی۔ استاد نے بڑی خوشی سے نذرانہ قبول کیا اور گھر کی طرف چل پڑے۔
اس کے بعد اورنگزیب دکن کی لڑائیوں میں اتنے مصروف ہوئے کہ چودہ سال تک دہلی آنا نصیب نہ ہوا۔ جب وہ واپس آئے تو وزیر اعظم نے بتایا۔ مولانا احمد جیون ایک بہت بڑے زمیندار بن چکے ہیں۔اگر اجازت ہو تو اُن سے لگان وصول کیا جائے۔یہ سن کر اورنگزیب حیران رہ گئے۔ کہ ایک غریب استاد کس طرح زمیندار بن سکتا ہے۔انہوں نے استاد کو ایک خط لکھا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔مُلا احمد جیون پہلے کی طرح رمضان کے مہینے میں تشریف لائے۔ اورنگزیب نے بڑی عزت کے ساتھ انہیں اپنے پاس ٹھرایا۔مُلا احمد کا لباس، بات چیت اور طور طریقے پہلے کی طرح سادہ تھے۔ اس لیے بادشاہ کو ان سے بڑا زمیندار بننے کے بارے میں پوچھنے کچھ حوصلہ نہ ہو سکا۔ایک دن مولانا صاحب خود کہنے لگے:
آپ نے جو چونّی دے تھی وہ بڑی بابرکت تھی۔ میں نے اس سے بنولہ خرید کر کپاس کاشت کی خدا نے اس میں اتنی برکت دی کہ چند سالوں میں سینکڑوں سے لاکھوں ہو گئے۔ اورنگزیب یہ سن کر خوش ہوئے اور مُسکرانے لگے اور فرمایا: اگر اجازت ہو تو چونّی کی کہانی سناؤں۔ ملا صاحب نے کہا ضرور سنائیں۔
اورنگزیب نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ چاندنی چوک کے سیٹھ "اتم چند" کو فلاں تاریخ کے کھاتے کے ساتھ پیش کرو۔سیٹھ اتم چند ایک معمولی بنیا تھا۔ اسے اورنگزیب کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا۔ اورنگزیب نے نرمی سے کہا: آگے آجاؤ اور بغیر کسی گھبراہت کے کھاتہ کھول کے خرچ کی تفصیل بیان کرو۔
سیٹھ اتم چند نے اپنا کھاتہ کھولا اور تاریخ اور خرچ کی تفصیل سنانے لگا۔
مولانا احمد جیون اور اورنگزیب خاموشی سے سنتے رہے ایک جگہ آ کے سیٹھ رُک گیا۔ یہاں خرچ کے طور پر ایک چونّی درج تھی لیکن اس کے سامنے لینے والے کا نام نہیں تھا۔ اورنگزیب نے نرمی سے پوچھا:
ہاں بتاؤ یہ چونی کہاں گئی؟
اتم چند نے کھاتہ بند کیا اور کہنے لگا: اگر اجازت ہو تو درد بھری داستان عرض کروں؟
بادشاہ نے کہا : اجازت ہے۔ اس نے کہا: اے بادشاہِ وقت! ایک رات موسلا دھار بارش ہوئی میرا مکان ٹپکنے لگا۔ مکان نیا نیا بنا تھا۔ اور تما م کھاتے کی تفصیل بھی اسی مکان میں تھی۔ میں نے بڑی کوشش کی ، لیکن چھت ٹپکتا رہا۔ میں نے باہر جھانکا تو ایک آدمی لالٹین کے نیچے کھڑا نظر آیا۔ میں نے مزدور خیال کرتے ہوئے پوچھا، اے بھائی مزدوری کرو گے؟
وہ بولا کیوں نہیں۔وہ آدمی کام پر لگ گیا۔اس نے تقریباً تین چار گھنٹے کام کیا، جب مکان ٹپکنا بند ہوگیا تو اس نے اندر آکر تمام سامان درست کیا۔ اتنے میں صبح کی آذان شروع ہو گئی۔ وہ کہنے لگا:
سیٹھ صاحب! آپ کا کام مکمل ہو گیا مجھے اجازت دیجیے ،میں نے اسے مزدوری دینے کی غرض سے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک چونّی نکلی۔ میں نے اس سے کہا:
اے بھائی! ابھی میرے پاس یہی چونّی ہے یہ لے ،اور صبح دکان پر آنا تمہیں مزدوری مل جائے گی۔وہ کہنے لگا یہی چونّی کافی ہے میں پھر حاضر نہیں ہوسکتا۔ میں نے اور میری بیوی نے اس کی بہت منتیں کیں ۔لیکن وہ نہ مانا اور کہنے لگا دیتے ہو تو یہ چونّی دے دو ورنہ رہنے دو۔میں نے مجبور ہو کر چونّی اس دے دی اور وہ لے کر چلا گیا۔اور اس کے بعد سے آج تک نہ مل سکا۔آج اس بات کو پندرہ برس گئے۔ میرے دل نے مجھے بہت ملامت کی کہ اسے روپیہ نہ سہی اٹھنی دے دیتا۔
اس کے بعد اتم چند نے بادشاہ سے اجازت چاہی اور چلا گیا۔بادشاہ نے مُلا صاحب سے کہا:
یہ وہی چونّی ہے۔کیونکہ میں اس رات بھیس بدل کر گیا تھا تا کہ رعایا کا حال معلوم کرسکوں۔سو وہاں میں نے مزدور کے طور پر کام کیا۔
مولانا صاحب خوش ہو کر کہنے لگے۔مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ چونّی میرے ہونہار شاگرد نے اپنے ہاتھ سے کمائی ہوگی۔ اورنگزیب نے کہا :ہاں واقعی اصل بات یہی ہے کہ میں نے شاہی خزانہ سے اپنے لیے کبھی ایک پائی بھی نہیں لی۔ہفتے میں دو دن ٹوپیاں بناتا ہوں۔ دو دن مزدوری کرتا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ میری وجہ سے کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوئی یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔(تاریخِ اسلام کے دلچسپ واقعات)
متاع تیموری لٹ گئی اور اب بھی
بیاں سود و زیاں، محمل لیلیٰ ہی ہے!
آپ اپنے وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں "کہ چار روپے جو میں نے ٹوپیاں بنا کر کمائے ہیں وہ میرے کفن میں خرچ کیا جائے اور تین سو پانچ روپے جو میں نے قرآن مجید کی کتابت سے حاصل کیے اسے غرباء میں خیرات کر دئیے جائیں۔ (تاریخ ہند مسلم عہد حکومت سے قیام جمہوریت تک)
اللہ تعالی فرماتا ہے:جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف فیصلہ کرو۔
اس قول پر موصوف علیہ الرحمہ نے بخوبی عمل کیا یوں کہیے کہ عملی تفسیر بن کر دکھایا
وما علینا الا البلٰغ
محمد اورنگزیب مصباحی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں