اشاعتیں

جنوری, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

*خواجہ غریب نواز کا تبلیغی اسلوب*

تصویر
تحریر: اورنگ زیب عالم رضوی مصباحی(دارالعلوم غریب نوا ،جھلوا)    آج ہم چاروں طرف برائی بے حیائی، فحاشی ، ظلم وتشدد کا بازار گرم دیکھ کر دل میں کہتے ہیں کہ اس قوم کا سدھرنا ناممکن ہے، یہ ہمیشہ برائیوں میں ہی ملوث رہیں گے۔ مگر آپ ذہن میں یہ بات بٹھا لیں کہ ہردور میں برائیاں ، برے اور ظالم سفاک لوگ رہتے بھی ہیں اور پہلے بھی رہتے تھے، مگر اس دور کے اولیاء ، قطب، مجتہدین اور فرشتہ صفت صالحین کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے جہلاء و سفاک اپنی خطا اور سفاکی سے توبہ کرکے راہ ہدایت پہ گامزن ہو جاتے تھے۔ ہمارا ماننا ہے کہ واقعی اگر ہم خلوص کے ساتھ تبلیغ اسلام کریں تو آج بھی کوئی بعید بات نہیں کہ کثیر تعداد میں لوگ راہ ہدایت اختیار کر لیں گے۔ مگر شرط ہے کہ ہم اپنے اسلاف کے سیرت و کردار کے آئینے میں یہ کام کریں۔ ان کے انداز و اسلوب کو اپنائیں۔ جب ہم اپنے اسلاف کو دیکھتے ہیں تو بےشمار متبرک ہستیوں میں ایک ہستی چھٹی صدی ہجری کے مجدد عطائے رسول سلطان الہند خواجۂ خواجگاں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری معروف بہ غریب نواز بھی ہیں جن کی تبلیغ کے حسن اسلوب اور تربیت کے اعلی معیار نے نہ صرف چند ...

جمہوری ملک میں جمہوریت کہاں ہے؟

تصویر
*جمہوری ملک میں جمہوریت کہاں ہے؟* ✍️تحریر: محمد اورنگ زیب عالم مصباحی(دارالعلوم غریب نواز جھلوا گڑھوا)    نظام حکومت بادشاہی ہو جمہوری ہو یا پھر اشتراکی بہر صورت قوم اور رعایا کے لیے سودمند اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ مجوزہ دستور اور قانون پر بالاستیعاب عمل ہو، عدالت و انصاف کا بول بالا ہو ، فیصلے میں رعایا پر مساوات ہو ۔      اس کے برعکس جب نظام حکومت میں قانون ساز ادارے اور ناظم حکومت خود عمل نہ کریں، یا عدالت میں ناانصافی کے ذریعے اسے شرمسار کیا جائے، مساوات کا گلا گھونٹ دیا جائے، رعایا کے فلاح و بہبود کے بجائے انہیں ساکت کرنے کی تگ و دو ہو تو پھر اپنے ہی ملک کے باشندے عہدیداران کو دشمن معلوم پڑنے لگتی ہے، اور انجام قوم کی بربادی، دستور، قانون، انصاف،عدالت اور خود حکومت کا بھی خاتمہ نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ دشمن ملک آسانی سے حملہ آور ہو کر یا مرعوب کرکے قبضہ جمانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔        جمہوری نظام والے ممالک میں ایک نام وطن عزیز ہندوستان کا بھی آتا ہے، مگر افسوس کہ دستور پر عدم عمل کہیے یا فرقہ پرست طاقتوں کا منصوبہ، عدالتی نظام کی کوتاہی س...

نئے سال کی خرافاتیاں

تصویر
 نئے سال کی خرافاتیاں  زندگی میں خوشی اور غم کا اتار چڑھاؤ لگا رہتا ہے کبھی خوشی میسر ہوتی ہے تو کبھی غم، یوں کہہ لیا جائے کہ زندگی خوشی اور غم کا سنگم ہے  تمام ممالک میں خوشی منانے کا الگ الگ دن ہے لیکن ایک دن ایسا دن ہے جس دن میں تمام ممالک میں جشن کا اہتمام کیا جاتا ہے، جسے عیسوی تاریخ کے حساب سے نئے سال کا دن کہا جاتا ہے اور وہ دن انگریزی کلینڈر کے حساب سے ایک جنوری کو نیا سال مناتے ہیں اور اس رات میں ایسے ایسے گناہ کیے جاتے ہیں جس کو سن کر قلب مسلم حیران رہ جاتا ہے اور کچھ ہمارے احباب دھیرے دھیرے اس گناہ عظیم میں منہمک / مشغول ہورہے ہیں جس سے انہیں باخبر کرنا کرنا ضروری ہے اور ان افعال قبیحہ و شنیعہ سے نفرت دلانا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ نئے سال کا جوش و جنون صرف چھوٹے بچوں یا جوانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر طبقے کو ہے جیسے ہی دسمبر کا مہینہ آتا ہے تو تمام کے سروں پہ ایک ہی خمار رہتا ہے کہ جنوری ہم خوب خوشیوں کے ساتھ منائینگے عیش کرینگے خوب پیسے اڑائینگے، اور اس خوشی میں اتنے منہمک ہوجاتےہیں کہ بہت برے افعال کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اور انہیں شرم تک نہیں آتی، جنون میں تو ...